جواب:
آج کل جو پھانسی کی سزا مقرر ہوئی ہے اس میں تو جان نکلنے کا راستہ نہیں رہتا۔ آدمی گھٹ گھٹ کر مرتا ہے اور تڑپنے کی وجہ سے زبان باہر آجاتی ہے اور صورت بگڑ جاتی ہے اسی طرح ایک الیکٹریکل چیئر ہے جس میں بیٹھنے ہی سے روح نکل جاتی ہے کیا معلوم ان پر کیا گزرتا ہوگا؟ بس بات اتنی سی ہے کہ قتل کی صورت میں خون بہنے کا منظر سامنے ہوتا ہے آپ لکھ اس کو وحشیانہ سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے اس لیے کہ اگر ہم کو کسی کا تڑپنا دکھائی نہیں دیتا تو ضروری نہیں کہ اسے تکلیف نہیں ہوئی ہو۔ ہاں یہ یہ بات ہے کہ بس ہم نے اپنی رعایت کر لی ہے جو بھیانک منظر خون کی وجہ سے دکھائی دیتا تھا اب وہ بھیانک دکھائی نہیں دیتا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تکلیف نہیں ہوتی اور یہ بات ذہن نشین ہو جائے قتل کی صورت میں تکلیف کم ہوتی ہے بالمقابل پھانسی کے اس لیے قتل میں جان نکلنے کا راستہ ہوتا ہے۔
اب رہی بات اسے دیکھنے والے کی وہشت ہوتی ہے جواب یہ ہے کہ قصاص میں غرض زجر و توبیخ ہے وحشت اس کے لیے معین اور مددگار ہے دیکھنے والے اس منظر کو دیکھ کر اس جرم (crime)کو کرنے سے باز رہتے ہیں۔