جواب :
دراصل غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہی بلاختیار ہم کرتے ہیں حالانکہ بات اسکے برعکس ہے-
چنانچہ اصل بات اس موضوع میں یہ ہے کہ ہم اور آپ جو کرینگے وہی تقدیر میں لکھا ہے یعنی تقدیر کی وجہ سے کوئ مجبور نہیں ہوتی بلکہ اپنے اختیار سے کرتا ہے جس انجام تک پہنچتا ہے وہ تقدیر میں لکھا ہوتا ہے-
اسکی وضاحت سمجھیں جیسے ایک انجینیر یا مالک جب اپنا کوئی مکان تیار کرتا ہے تو مکان سے پہلے اسکا نقشہ تیار کرتا ہے-
ایسے ہی جب اللہ تعالی نے اس کائنات کو آباد کرنے کا ارادہ کیا اورجو نقشہ تیار کیا اسی نقشہ اور پلان کا نام تقدیر ہے اب ظاہر سی بات ہے کسی انجینیر کے صرف نقشہ بنالینے سے خود بخود گھر کھڑا نہیں ہوتا ہے بلکہ کاریگروں کو محنت کرنی پڑتی ہے اگر کاریگر یہ خیال کرلیں کہ چونکہ یہ گھر کیسا ہوگا اسکے ستون کیسے ہونگے سب پہلے نقشہ میں تیار ہے لہذا وہ ویسا ہی ہونا ہے اسلیے ہم محنت نہیں کرینگے اینٹ کو نہیں جوڑینگے تو ایسے کاریگر کو بے وقوف ہی کہا جاسکتا ہے-
ایسے ہی ایک اور مثال سے اسکو سمجھیں اگر کسی شخص کے فلاں تاریخ میں ہمارے پاس آنے کی اطلاع پہلے سے ملی ہو یعنی وہ آدمی فلاں تاریخ میں آئے گا اب جب وہ تاریخ آے وہ آدمی سفر کے ارادہ سے گھر سے نہ نکلے اور گاڑی میں نہ بیٹھے بلکہ اس خیال میں رہے چونکہ اسکو علم ہے لہٰذا میں پہنچ جاؤں گا تو یہ بے وقوفی کہلاۓ گی نیز جب وہ آدمی فلاں تاریخ میں وہاں پہنچے تو وہ اپنی قصد اور ارادہ اور محنت کی وجہ سے ہی پہنچے گا نہ کہ اسکا پہلے علم ہوجانا اس دوسرے شخص کو خود بخود پہونچا دے گا-
ایسے ہی مسئلہ تقدیر کا ہے اللہ تعالی کو ہر چیز کا علم ہے لیکن اسکی وجہ سے انسان مجبور محض نہیں ہوجاے گا بلکہ اپنے قصد اور ارادہ سے اعمال کرنا ہی ہو گا جب اپنے قصد اور ارادہ سے اعمال کرے گا تب ہی جنت میں جاے گا ورنہ نہیں-